ABOUT MADARSA

باغ عا ئشہ کے قیام کا مقصد

خواتین اور بچیوں کی تعلیمی اور زہنی تربیت کر کےپرُ وقار، با کردار اور صالح معا شرہ کی تشکیل و تعمیر ہے-چونکہ ہمارا ماننا ہے کہ-"جب ایک ماں عصمت و عفت کی دولت سے لبر یز تعلیم یافتہ و تہذیب یافتہ با کردار خاتون ہوتی ہے تو اس کی گود مین پلنے والا بچہ "حسینی کردار ،قادری فکر اور چشتی مزاج لے کے پیدا ہوتا ہے"یا "دین  کاداعی اور اسلام و سماج کا اچھا و سچا سپاہی ہوتا ہے"-جو ایک خطہ ایک ملک ہی نھیں بلکہ دنیا کو منور کرتا ہے-کوئی بھی با شعور شخص اس بات سے انکار نھیں کر سکتا  کہ بڑےبڑے دانشوار ، مفکرین ، حکام اور بزرگانِ دین جو گزرے ہیں ، ان کی تربیت میں خواتین کی بہت بڑی حصہ داری نہ ہو ، بلکہ ان کی تربیت ہی اصل سرمایہ بنی ہے ، مشل مشہور ہے کہ جب ایک خاتون تعلیم یافتہ یا تہذ یب  یافتہ ہوتی ہے  تو  ایک خوبصورت و مہذب خاندان کی تعمیر ہوتی ہے ، ہم سب جانتے ہے کہ خاندان ہی سماج کی اکائی ہے ،جس سے سماج کی تسکیل ہوتی ہے تو جس دن دنیا  کی ہر  ماں تعلیم یافتہ و تہذ یب یافتہ ہو جائے گی ، پورا سماج اور معاشرہ  تہذ  یب یافتہ ہو جائے گا- اور یہی باغِ عا ئشہ کا خواب ہے ، کسی دانشوار نے خوب کہا ہے : مجھے بہترین مائیں دو ، میں تمھیں بہترین قوم دوں گا اور تعلیم یافتہ ماں ہی بہترین قوم کو جنم دیتی ہے ، اور یہی باغِ عائشہ کا خواب ہے

 

 ہمیں نہیں بھو لنا چاہیے کہ دنیا میں جو خرابیاں آتی ہیں اور گناہوں کے دروازے کھلتے ہیں اس میں بہت بڑی سراکت عورتوں کی ہوتی ہیں ، آج موبائل اور انٹرنیٹ کا زمانہ ہے- جن کے زریعہ بہت سی سہو لتیں اور آسانیا ں  ہیں ،  وہیں گمراہی اور گناہوں کے دروازے بھی آسانی سے کھل رہے ہیں،  جس کے شکار اور آلہ کار صحیح تربیت نہیں رہنے کی وجہ کر سماج اور خاص کر  عورتیں ہو رہی ہیں-  اس لیے سماج کی بچیوں، طالبات اور خواتین کو تعلیم یافتہ و تہذ یب یافتا بنانے کی کوشش ہی  باغِ عائشہ  کا اصل مقصد ہے-  انھی مقاصد کے تہت جہاں چھوٹی عمر  کی بچیو کی تعلیم  کے لیے  تعلیمی سنٹر  چلائے جا رہے  ہیں،  وہیں طالبات کے حصول علم میں رہنمائی و  مدد  کی جا رہی ہیں-  رسول ببخش لائبریری قائم  کر کے  خواتین  کے مطالعے  کے  لیے اچھی اور کارآمد ،  کردار ساز  کتابوں کا  زخیرہ   جمع  کیا جارہا  ہے-

 

بڑی عمر   کی  لڑ کیوں اور  خواتین  کو  اپنی  کفالت کا  اہل بنانے کے  لیے  سلائی، کٹائی، دستکاری،  کوچنگ، پینٹنگ اور دیگر چھوٹی چھوٹی گھریلو صنعتوں کی تربیت  دے  کر  انھیں گھر  میں ہی   روزگار  حاصل کر کے خودکفیل  بنانے  کی  کوشش  کی  جا رہی ہے اور  جلد ہی  عصر ی  تکنیکی علوم کمپیوٹر  ٹریننگ،  نرسنگ  اور   پیتھولوجیکل جیسے  کورس شروع  کرنے  کا  اراداہ  ہے-

 

ساتھ ہی  خواتین کی  ذہنی  تربیت  کے  لیے  تدریسی  کلاسیز   کے  علاو ہ  ہفتاواری مجلسو کا  انعقاد  کرکے قران  و  حدیث  اور  شرعی مشائل  کی  تعلیمات  دی  جاتی ہے-  مشہور خواتین  اسلام اور  بزرگانِ دین کی  سیرتوں کے  حوالے سے اپنی زندگی کو  اسلامی نیہج پر  گزارنے کی تر غیب دی جاتی ہے-

 روحانی  غذائیت کے  لیے  نعت خوانی  اور   رسول -----کی محفلیں بھی  منعقد  کی  جاتی  ہیں-

 

باغِ عائشہ  کے ذ ر یعہ  چلائے  جا رہے  ہ  ترتیبی  کورس  سے  استفادہ  کر کے  آج  کتنی  ہی  خواتین  روزگار  کاموقع  پیدا  کر کے  اپنے  خاندان  کو  مستفیض کر   رہی ہے،  وہیں  پر   باغِ عائشہ  سے  تربیت  پا کر  اپنے  بہترین  کردار  اور  اعمال  و حکمت  سے  اپنی خانگی  زندگی  کو  خوسگوار  بنا کر اپنے خاندان کو عزّت  بخشنے  میں  معاون  و مدد گار  ثابت ہو  رہی  ہیں-

 

منصو بے

ہمارے قریب کے منصو بو ں  میں باغِ عائشہ کی خود کی زمین کی حصولیابی اور ان پر تعمیرات کے لیے فنڈ کی فراہمی ہے تا کہ تعلیمی سلسلے  کو با ضابتا طور سے جاری رکھا جا سکے  اور ایک  وسیع لائبریری، کمپیو ٹر لیب، شفا خانہ، شبعہ تدریث و تبلیغ کے لیے کمروں  کی تعمیرات کی جدوجہد شامل ہے-

 

ہمارے منصوبوں  میں ایک وسیع لائبریری کا قیام، غریب بستیو میں مفت شفا خانہ کا قیام مختلیف محللو میں ٹیکنکل ترتیبی سنٹر کا قیام، شبعہ تدریس، شبعہ تبلیغ و غیر ہم کے ساتھ ساتھ تعلیم نسواں کے لیے بڑے  پیمانے پر انتظام و جدوجہد شامل ہے-

الحمد لللہّ باغِ عائشہ کے ذمہ داران و ارکان کے دلوں میں باغِ عائشہ کو فر وغ دینے کے لیے خواہش کا چراغ شرارے بن کر لہک رہے ہیں،

 

غزائم  بلند ہیں مگر و شائل کی کمی رکاوٹ بن کرہمارے  حوصلوں کے درمیان حائل ہے- مگر نیت میں اخلاص اور  ارادے نیک ہوں تو   اللہ تعالی کے

 

فضل کرم سے کامیابی مل ہی جاتی ہے،  ہمیں یقین ہیں کے انساء اللہ باغِ عائشہ کے تمام منصوبے  زمیں پر  اُتر   کر  رہیں گے- انشاء اللہ-

                 

کہ  حکومت  بھی  تعالیم  نسواں  اور خواتین  کو  خود کفیل  بنانے  اور  عورتوں  کو سماج  کے لیے  معاون  و مددگار  بنانے کے لیے  بہت سے پروگرام  چلا رہی  ہے  اور  ان کو خواندا بنانے، صحت مند  اور  ہنر مند بنانے  پر کروڈوں  رپئے خرچ کر رہی ہے-  باغِ عائشہ  اپنی صلاحیت کے مطابق اپنے طور پر  عورتوں کو خوانداہ بنا کر تعلیم و تربیت، ہنر مند بنا کر جہاں صالح معاسرا   کی تعمیر میں اہم کردار ادا کر رہی ہے، وہیں پر حکومت کے کام میں ایک طرح سےہاتھ بٹا کرتعلیم نسواں میں معاون اور مددگار  ثابت  ہو رہی ہے-ہمیں  امید ہی نہیں یقین ہے کہ یہ ہما رے پروگرام اور  منصو بو ں سے